صفحہ اول / Urdu News / مقامی حکومت کو درپیش مسائل کا جائزہ
866165-problems-1499326692.jpg

مقامی حکومت کو درپیش مسائل کا جائزہ


مقامی حکومت کو درپیش مسائل کا جائزہ

مقامی حکومتوں کو ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ بیت چُکا ہے مگر ابھی تک بیشتر منتخب نمائندگان کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء اور ترمیمی بل 2016ء کے تحت مقامی حکومت کے اختیارات کے بارے میں بنیادی ترین معلومات سے آگاہی نہیں ہے۔ میں پچھلے ایک سال سے بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ کام کررہا ہوں، اور اپنے تجربات کی بنیاد پر اِس حوالے سے کچھ حقائق پیش کرنا چاہ رہا ہوں۔ 

جیسا کہ لوکل گورنمنٹ کے بنیادی ایجنڈے میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی، بہتر گورننس، عوام کی زیادہ سے زیادہ شراکت داری، مقامی مسائل کی نشاندہی اور بنیادی ترین مسائل کے حل کیلئے لوگوں کی باہمی مشاورت سے ترقیاتی منصوبہ بندی کرنا شامل ہے، مگر مندرجہ بالا ایجنڈے کی تکمیل میں بہت ساری رکاوٹیں درپیش ہیں۔ مثلاً صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی حکومتوں کے ترقیاتی بجٹ کی مد میں بہت ہی قلیل رقم مختص کی ہے۔

بجٹ کے گورکھ دھندے کے اعداد و شمار میں جانے کے بجائے میں آپ کو ڈسٹرکٹ مظفر گڑھ کی یونین کونسل بیٹ قائم والا، راجن پور کی یونین کونسلز سہن والا اور نوشہرہ شرقی کے بجٹ کا نمونہ پیش کرتا ہوں۔

اِن تینوں یونین کونسل کا بجٹ 17-2016ء کی پہلی قسط کل ملا کر 30 لاکھ سے بھی کم ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہ تمام اضلاع بنیادی ترقیاتی ڈھانچے کی کم ترین سطح پر موجود ہیں، اور مزے کی بات یہ کہ اِس بجٹ میں اسٹاف کی تنخواہیں بھی شامل ہیں۔ آپ تصور کریں کہ 8 سے 10 لاکھ کی رقم میں پوری یونین کونسل میں کونسا ترقیاتی کام ہوسکتا ہے؟ کم و بیش یہی صورتحال پنجاب کے اکثر اضلاع کی یونین کونسلز کی ہے۔ ہاں البتہ میٹروپولیٹن کا درجہ رکھنے والے شہروں کا معاملہ الگ ہے۔

دوسری رکاوٹ ہر اضلاع کے صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے منتخب ممبران کی صورت میں مشاہدے میں آئی ہے، شاید اِس رکاوٹ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ اُن کے حلقہ کے عوام آزادانہ طریقے سے مقامی سطح پر اپنے مسائل حل کریں۔

تیسری وجہ بلدیاتی نمائندوں کی لوکل گورنمنٹ ایکٹ سے مکمل ناآشنائی ہے۔ اُن کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اُن کے اختیارات کیا ہیں؟ لوکل گورنمنٹ اپنی آمدنی کیسے بڑھا سکتی ہے اور کون کون سے ترقیاتی کام لوکل گورنمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں؟

چوتھی وجہ جاگیردارنہ رویہ اور منتخب ارکان کا غیر جمہوری طرزِ عمل ہے۔ عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ چئیرمین اپنے ڈیرے پر بیٹھے رہتے ہیں اور اُن کے اردگرد روایتی حواریوں کی ٹولیاں براجمان ہوتی ہیں جو بے بنیاد پروپیگنڈا، جھوٹی تعریف اور اپنے چھوٹے موٹے مفادات کی خاطر ’جی حضوری‘ میں مشغول رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے منتخب ارکان کا زیادہ تر وقت انہی لوگوں کے ساتھ گزر جاتا ہے اور وہ باقی عوام کے مسائل پر توجہ نہیں دے پاتے۔

ایک وجہ مقامی بیوروکریسی اور منتخب ارکان کے اختیارات کا تنازعہ بھی ہے۔ بجٹ کی منظوری، آڈٹ، ٹینڈر وغیرہ کی پیچیدگیاں اور ٹیکنیکل فارمیٹ روایتی سوچ رکھنے والے جاگیرداروں اور ٹھیکیداروں کو جھنجھٹ نظر آتا ہے۔ اِس لئے وہ اِس عمل کا حصہ بننے سے کتراتے ہیں۔

منتخب ارکان کا مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ ہونا ایک اہم وجہ ہے۔ عام طور پر ہمارے ملک میں سیاسی پارٹیوں سے وابستگی ایک دوسرے سے دشمنی کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ بات عام مشاہدے کی ہے کہ مسلم لیگ والے پی ٹی آئی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور پی ٹی آئی والے نون لیگ کو، جس کا منفی اثر ترقیاتی کاموں اور لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔

ایک وجہ دیہات کی سطح پر یہ بھی ہوتی ہے کہ منتخب ہونے والی خواتین کو اُن کے خاندان کے افراد اجازت ہی نہیں دیتے کہ وہ کسی اجلاس کا حصہ بنیں یا اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کریں جس کی وجہ سے خواتین کے مسائل اُجاگر نہیں ہوپاتے اور معاشرے کا نصف حصہ اپنی آواز کے بغیر زندہ رہتا ہے۔

بلدیاتی حکومتوں میں ایک مسئلہ یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ یہاں اپوزیشن کی اہمیت و حیثیت مثالی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے جوابدہی کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔

آخری اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک عوام کو بھی اپنے حقوق کے حوالے سے زیادہ علم نہیں ہے۔ یعنی اگر آپ نے جن کو ووٹ دیا اور وہ فتح حاصل کرنے میں ناکام رہا تو آپ خودبخود ہی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب آپ کا حق ہی ختم ہوگیا ہے، یعنی آپ اپنے علاقے کی ترقی اور مسائل کے حل کے لیے جیتنے والے اُمیدوار کے پاس جا ہی نہیں سکتے۔ یہ مسئلہ صرف ووٹ دینے والوں کو درپیش نہیں ہے بلکہ جیتنے والے اُمیدوار نے بھی خود سے ہی سمجھ لیا ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے مجھے ووٹ نہیں دیئے، بھلا وہ اُن کے مسائل کے حل کیلئے کام کیوں کرے؟ حالانکہ یہ تصور اور خیال نری جہالت کے مترادف ہے۔

ایسی ہی تمام وجوہات اور حقوق و فرائض سے ناواقفیت کے ساتھ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث بلدیاتی حکومت کا نظام عوام کو خاطر خواہ فائدہ پہنچانے میں ناکام ہی نظر آتا ہے۔ اگر حکومت اِس جانب توجہ دے، فنڈز کی فراہمی اور اختیارات کی صوبداید کو ملحوظ رکھا جائے تو جمہوری نظام کی کامیابی کا آغاز ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ   [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیولنکس بھی۔

Source: Urdu Reporter

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں

2058598-election-1594485110.jpg

گلگت بلتستان میں آئندہ عام انتخابات ملتوی

گلگت بلتستان میں آئندہ عام انتخابات ملتوی Source: Urdu Reporter Comments comments