صفحہ اول / Urdu News / آٹھ سو ملین بھوکے انسانوں کا المیہ
1477893580_0-k-1477716475.jpg

آٹھ سو ملین بھوکے انسانوں کا المیہ


آٹھ سو ملین بھوکے انسانوں کا المیہ

عالمی سطح پر غربت کی لکیر اور world hunger index کا ذکر سنتے آئے تھے۔ ذرا تحقیق کی تو پتہ چلا کہ غربت کی یہ منحوس لکیر اس طرح کھنچتی ہے کہ کسی فرد کی یومیہ آمدن 1 ڈالر یا 106 پاکستانی روپے سے کم ہو تو کہتے ہیں کہ وہ شخص غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ اس انکشاف پر سوچ ہی رہے تھے کہ نئی خبر نظر سے گزری کہ دنیا میں تقریباً 800 ملین افراد غذائی قلت کا شکار ہیں جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ ان خبروں میں افریقی ملک کی وہ دل دہلا دینے والی تصویر بھی تھی کہ جس میں ایک بچہ جو کہ بھوک سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ہوا ہے، چل پھر نہیں سکتا اور افریقہ کے کسی ویرانے میں رینگ رہا ہے اور پس منظر میں ایک گِدھ بیٹھا اسکے مرنے اور نوچ کھانے کا انتظار کرتے ہوئے اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ اس تصویر نے عالمی اعزاز حاصل کیا اور عالمی ضمیر کوجھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

انہی انعام یافتہ تصویروں میں ایک تصویر اس بچے کی بھی ہے جسمیں وہ اپنی مردہ ماں کو اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ تصویر بھی کسی قحط زدہ افریقی ملک کی ہے جس میں بچہ زار و قطار روتا دکھائی دے رہا ہے۔ ابھی دل و دماغ اس صدمے سے دوچار تھے کہ ایک خبر نظر سے گزری جس میں ایک سعودی شہزادے کا ذکر تھا کہ موصوف نے جرمنی میں مرسڈیز کمپنی سے ایک کار تیار کروائی ہے جس کے ہر پرزے پر نہ صرف اسکا اسم شریف کندہ ہے بلکہ اس گاڑی کے پینٹ میں بیس لاکھ ڈالر یعنی 2 ملین ڈالر کے ہیرے لگائے گئے ہیں۔ آپ یقین نہیں کریں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ بیس لاکھ ڈالر سے صومالیہ کی پوری آبادی کو پورا مہینہ بہترین خوراک فراہم کی جاسکتی ہے۔

ایک اور خبر جو نظروں سے گزری وہ یہ تھی کہ ایک سعودی نے اپنی بیٹی کی شادی میں اسے سونے کا ٹوائلٹ تحفے میں دیا۔ یعنی انسان حیران و پریشان ہو جاتا ہے کہ دولت کی اتنی بے توقیری اور ایک طرف انسان بھوک سے مر رہے ہیں اور دوسری طرف ایک وہی ابن آدم سونے کے اوپر رفع حاجت کر رہا ہے۔ ابھی پرسوں کی بات ہے ملک کے ایک موقر روزنامے میں کسی امیر سعودی ارب پتی سے متعلق خبر آئی تھی کہ موصوف نے ایک روسی شہری سے ایک کشتی خریدی ہے جس میں تعیش کے سامان ہیں۔

ان دردناک خبروں کی تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ دنیا میں سالانہ 1.3 ارب ٹن خوراک ضائع کی جاتی ہے۔ اگر یہ خوراک ضائع ہونے سے بچالی جائے تو 2 ارب انسانوں کے لئے غذا فراہم کی جاسکتی ہے۔ دین اسلام میں دسترخوان کے اصول ہیں۔ جس میں کھانے کے شروع سے لیکر اختتام تک ہر لمحہ ایک مکمل ضابطہ ہے۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے ساتھ کھانے پر شریک تھا۔ کھانے کے بعد حضرت نے دسترخوان کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔ بڑے ٹکڑے بلیوں کو ڈال دیئے ۔ ہڈیوں کو الگ کرکہ ایک طرف ڈال دیا جو کتوں وغیرہ کے لئے تھے اور زرات الگ کر کہ چیونٹیوں کے بلوں کے قریب ڈال دیئے۔ اس طرح انسان تو انسان جانور اور حشرات بھی بھوکا نہیں رہ سکتے۔

وسائل کا منصفانہ اور منطقی تقسیم ہی مسائل کا حل ہے۔ نفلی حج اور عمروں پر جانے والے اگر اپنے اردگرد دیکھیں تو بے شمار بیمار لاعلاج پڑے نظر آئیں گے۔ بے شمار ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایسی ہیں جن کی عمریں شادی کی حدوں سے نکل رہی ہیں لیکن غربت کی وجہ سے کنوارے رہنے پر مجبور ہیں۔ بے شمار ایسے بچے جو اسکول جانے کے بجائے محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔ اگر ایک نظر ان پر بھی ڈال لی جائے تو کوئی حرج نہیں۔

عالمی ادارہ برائے فروغ وسائل (World Resource Institute) اور عالمی ادارہ خوراک کے ایک حالیہ سروے کے مطابق دنیا میں تمام خوراک کا ایک تہائی حصہ ضائع ہوجاتا ہے جوکہ ایک فاش غلطی ہے۔ اگر شادی بیاہ اور ہوٹلوں میں دیکھا جائے تو ضائع ہونے والی خوراک استعمال ہونے والی خوراک کے برابر ہوتی ہے۔ اجتماعی وسائل سے متعلق شعور اور آگہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ دین اسلام کے زریں اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے ہم اپنے تمام معاشی مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔ موثر قانون سازی بھی اس ضمن مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ مثلاً یورپ میں سوشل سکیوریٹی کا قانون رائج ہے جو شہریوں کو اجتماعی وسائل کے زیاں سے روکتا ہے اور اس کے لئے ہم اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہیں جو دریا کے کنارے فضول پانی استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگرجامع تعارف کےساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔


Source: Urdu Reporter

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں

2069106-isreal-1597335427.jpg

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ، سفارتی تعلقات قائم

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ، سفارتی تعلقات قائم Source: Urdu Reporter …